ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں اور بصریات کے ماہرین نے میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں کے تعاون سے ایک ایسی نئی روشنی تیار کرلی ہے جو آسمان پر جم جانے والے انتہائی سرد او رمنجمد قسم کے ذرات پر مشتمل گھنے بادلوں میں روشنی کے پارٹیکلز پہنچا سکتی ہے۔ سائنسدانوںکا کہناہے کہ جب یہ پارٹیکلز نئی روشنی کی زد میں آکر جوہری بادلوں سے نکلیں گے تو لائٹ پارٹیکلز جنہیں فوٹون بھی کہا جاتا ہے کوائنٹم کمپیوٹرز کے لئے بجلی کے کفیل بن جائیں گے۔ جہاں تک روشنی اور اسکے مختلف پہلوﺅں پر شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کا تعلق ہے یہ اپنی قسم کی پہلی رپورٹ ہے ایک زمانہ تھا جب ایسی روشنیاں سائنس فکشن کتابوں تک محدود سمجھی جاتی تھیں مگر اب ایسا نہیں رہیگا۔ مستقبل قریب میں ہم ایسے منور کرسٹلز تیا رکرسکیں گے جو کبھی زوال پذیر نہیں ہونگے اور جنکی روشنی مختلف شعبہ حیات میں استعمال ہوسکے گی۔ان روشنیوںکی مدد سے انتہائی برق رفتار قسم کے میزائلوں کی تیاری بھی ممکن ہوجائیگی۔

Share: