ایک ایسے وقت میں جب روس اور مغربی ملکوں کے تعلقات پھر کشیدہ نظرآنے لگے ہیں زیر آب بچھائے گئے آپٹک کیبل کے بارے میں مغربی ملکوں کو بطور خاص تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ واضح ہو کہ زیر آب مواصلاتی کیبلز کا اگر شمار کیا جائے تو انکی تعداد 400 کے قریب ہے او ر یہ کیبلز دنیا کے تقریباً تمام سمندروں کے نیچے پھیلے ہیں اور یہی وہ کیبل ہیں جن کی مدد سے دنیا ای میلز اور ٹیکسٹ میسجز بھیجتی ہے جو ایک بہت بڑا کاروبار ہے جس کا سالانہ لین دین 10کھرب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ مجموعی طور پر زیر آب کیبلز کی لمبائی 6لاکھ 20ہزار ہے یعنی اگر اسے دنیا کے گرد لپیٹا جائے تو 25مرتبہ پوری دنیا کو لپیٹا جاسکتا ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس میں روس کی دلچسپی حالیہ مہینوں میں بہت زیادہ بڑھی ہے اور مغرب کو اس کی اسی زیادہ دلچسپی پر تشویش ہے اور وہ یہ سوچنے لگے ہیں کہ موجودہ بگڑتی ہوئی فضا میں انکے کسی عمل کے جواب میں کوئی خراب اور نقصان دہ قسم کا ردعمل نہ دکھادے۔

Share: