برطانوی کمپنیاں ایک بار پھر ’ہیکنگ برائے تاوان‘ کی زد میں آ گئیں.

دنیا بھر کی معروف کمپنیوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے اس بات کا اعلان کیا کہ انہیں سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یوکرین کی سرکاری توانائی کمپنی اور کیف ایئرپورٹ کے سسٹم کو بھی ہیک کیا گیا۔ چرنوبل نیوکلیئر پاور کے ونڈوز بیسڈ سرورز بھی ہیکنگ کی وجہ سے بند ہو گئے جس کے بعد ماہرین کو خود ہی تابکاری کی سطح کی مانیٹرنگ کرنی پڑی۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے ساتھ متاثرہ ممالک سے رابطے میں بھی ہیں۔ سائبر حملے کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں روس کی آئل کمپنی روسنیفٹ، برطانوی ایڈورٹائزنگ ایجنسی ڈبلیو پی پی، ڈینش شپنگ فرم مرسک، امریکی دوا ساز کمپنی مرک و دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔

یہ سائبر حملہ بھی گزشتہ ماہ یورپ پر ہونے والے سائبر حملے ’وانا کرائی‘ سے مماثلت رکھتا ہے کیوں کہ یہ حملہ بھی نیٹ ورکس میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر کیا گیا اور اس حملے کے بعد بھی ہیکرز نے متاثرہ کمپنیوں سے فائلز کی واپسی کے لیے بٹ کوائن کی صورت میں تاوان طلب کیا ہے۔ ماسکو میں واقع سائبر سیکیورٹی فرم آئی بی کا کہنا ہے کہ اس حملے کی زد میں روس اور یوکرین کی تقریباً 80 کمپنیاں آئیں، اس کی وجہ سے کمپیوٹرز لاک ہو گئے ہیں اور تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Share: