دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز ’اسٹریٹو لانچ‘ اُڑان بھرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور یہ طیارہ آنے والے برسوں میں نہایت کم خرچ پر راکٹوں کو خلاء میں بھیجنے کا کام بھی کر سکے گا۔

اسٹریٹو لانچ کا منصوبہ مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن نے شروع کیا ہے جب کہ اِس منصوبے کو آگے بڑھانے میں انہیں مشہور ایئرواسپیس کمپنی ’اسکیلڈ کمپوزٹس‘ کے علاوہ ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔ چند روز قبل اسٹریٹو لانچ کا پہلا پروٹوٹائپ کیلیفورنیا کے موہاوی صحرا میں بنے ایک وسیع ہینگر سے پہلی مرتبہ باہر لایا گیا جہاں جلد ہی اس کے انجن اور دیگر اہم نظاموں کی آزمائش کی جائے گی جس کے مکمل ہو جانے کے بعد یہ 2019 کی ابتدائی تاریخوں میں اپنی پہلی تجرباتی اُڑان بھرے گا۔ اسٹریٹو لانچ کو بطورِ خاص سیارچہ بردار راکٹوں کو انتہائی بلندی پر پہنچا کر خلا کی سمت چھوڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جس سے خلائی سفر کے اخراجات بہت کم کیے جا سکیں گے۔ اسٹریٹو لانچ کے بازوؤں کا پھیلاؤ 385 فٹ اور اونچائی 50 فٹ ہے جب کہ اس میں 28 دیوقامت پہئے (وہیل) لگے ہیں اور ہر پہیہ کسی ٹرک جتنی جسامت کا ہے۔

علاوہ ازیں اس میں بوئنگ 747 مسافر بردار طیارے میں نصب ہونے والے 6 عدد طاقتور جیٹ انجن بھی لگائے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 500,000 پونڈ سے بھی زیادہ پے لوڈ کو ہزاروں فٹ کی بلندی تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آئندہ 18 ماہ تک اس کی زمینی آزمائشیں جاری رکھی جائیں گی اور مختلف پہلوؤں سے اس کے تحفظ کی یقین دہانی حاصل کی جائے گی جس کے بعد توقع ہے کہ یہ 2019 کے ابتدائی مہینوں میں اپنی پہلی پرواز کرے گا۔ البتہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ یہ تجارتی طور پر کب سے استعمال میں آنا شروع ہو جائے گا۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ اسٹیریو لانچ اور ایسی دوسری ٹیکنالوجیز کی بدولت خلائی سفر کے اخراجات مستقبل میں بہت ہی کم رہ جائیں گے۔

Share: