ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اپنی مصنوعات اورایجادات کے حوالے سے منفرد مقام رکھتی ہے، جب کہ یہ کمپنی کئی ایسے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے، جو انسانوں کی بہتری کے لیے اہم ہیں۔ حال ہی میں گوگل کے شریک بانی سرگی برن کے منصوبے سے متعلق افشاں ہونے والے دستاویزات کے مطابق وہ ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہیں، جسے مستقبل میں خالصتا انسانی خدمت کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ افشاں ہونے والے دستاویزات کے مطابق سرگی برن اپنی ٹیم کے ہمراہ دنیا کے سب سے بڑے طیارے بنانے میں مصروف ہیں، جسے دنیا کے دور دراز علاقوں میں ایمرجنسی کی صورت میں امدادی کاموں کے لیے استعمال میں لایا جاسکے گا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی طور پر سرگی برن اس منصوبے کو اپنے ذاتی پیسوں سے آگے بڑھا رہے ہیں، اور انہوں نے اس کے لیے ایک الگ انتہائی خفیہ ٹیم بنا رکھی ہے۔

سرگی برن ایک ایسا طیارہ چاہتے ہیں، جسے رن وے کی ضرورت نہ ہو، وہ ایک ہیلی کاپٹر کی طرح کام کرے، مگر اس میں سامان اور کارگو لے جانے کی صلاحیت عام طیاروں سے بھی زیادہ ہو۔ گوگل کے شریک بانی کی جانب سے تیار کیا جانے والا جدید ٹیکنالوجی کا حامل ایئر شپ طیارہ 200 میٹر طویل ہوگا، جوحالیہ دور کا سب سے بڑا طیارہ ہوگا۔ سرگی برن کی ٹیم کی جانب سے تیار کیا جانے والا ایئرشپ 1930 میں تیار کیے گے جرمنی کے ہیڈن برگ زیپیلنس اور امریکی بحریہ کے یوایس ایس میکون جتنا بڑا ہوگا۔ دستاویزات کے مطابق گوگل کے شریک بانی اس ایئرشپ طیارے میں جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال چاہتے ہیں، تاکہ اسے دنیا کے دور دراز اور قدرتی آفات سے نبرد آزما خطوں میں بھی آسانی سے لے جایا جاسکے۔ خیال رہے کہ سرگی برن اس منصوبے پر گزشتہ چند ماہ سے کام کر رہے ہیں، جب کہ ابھی یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے.

یہ واضح نہیں ہے کہ گوگل کے شریک بانی ابتدائی طور پر کتنے ایئر شپ تیار کریں گے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس ایئرشپ کے ذریعے آفات سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی جانے والی امداد کس کی جانب سے بھیجی جائے گی؟۔

Share: