آن لائن ویب بلومبرگ کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی سے چلنے والے فارم کو تعمیر کرنے والا ہے۔ اور اس کے لیے سعودی عرب ایک مشہور بنک سافٹ بینک کے ساتھ اشتراک کرے گا اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس فارم سے 2 لاکھ میگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی۔

اس فارم سے جتنی بجلی حاصل ہوگی وہ گزشتہ سال دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع سے حاصل ہونے والی کل مقدار کے ایک تہائی کے برابر ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ شمسی توانائی کے اس فارم کی تعمیر 200 ارب ڈالرز میں ہوگی۔

یہ سعودی عرب کی جانب سے خام تیل پر انحصار کو کم کرکے توانائی کے متبادل ذرائع تک رسائی کو بڑھانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ سعودی حکومت کی جانب ماحول دوست توانائی کے ذرائع کے حوالے سے کچھ عرصے سے زور دیا جارہا ہے اور اس حوالے سے گزشتہ سال منصوبوں پر کام شروع کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  دماغ پڑھنے والا حیرت انگیز روبوٹ تیار

دنیا کے سب سے بڑے سولر فارم کی تعمیر مکمل ہونے پر سعودی عرب کی بجلی کی پیداوار میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا جو کہ 2016 میں 77 ہزار میگاواٹ تھی، جو کہ قدرتی گیس اور خام تیل سے تیار کی جاتی ہے۔

سافٹ بینک کے بانی Masayoshi Son نے اس منصوبے کا اعلان منگل کو نیویارک میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔\اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کے مواقع کافی وسیع ہیں جبکہ وہاں بے آباد زمین بھی کافی زیادہ ہے۔ سعودی عرب اس منصوبے کو 2030 تک مکمل کرنے کا خواہشمند ہے۔

اس بینک نے گزشتہ سال سعودی حکومت کے ساتھ مل کر ایک وژن فنڈ نامی ٹیکنالوجی فنڈ کو تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا تھا اور یہ سولر فارم کے لیے 93 ارب ڈالرز فراہم کرے گا جبکہ باقی سرمایہ سعودی حکومت کی جانب سے لگایا جائے گا۔

Share: