کیا دنیا واقعی 600 سال میں ختم ہو جائے گی؟

ماہر طبیعات اسٹیفن ہاکنگ نے ایک بار پھر دنیا کی تباہی کی سائنسی توجیح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اور توانائی کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے اس کالازمی نتیجہ یہی ہونے والا ہے کہ آئندہ 600 سال سے کم عرصہ میں دنیا آگ کا گولہ ہوکر رہ جائے گی اور کرہ ارض پر انسانی وجود ختم ہوجائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ نظام شمسی میں زمین کے سب سے قریب واقع ستارے الفاسنچوری پہلے ہی انحطاط پذیر ہے اور اس کی وجہ بھی گرمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ مزید کم ازکم 10 لاکھ سال تک نسل انسانی موجود رہے تو ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہونگے جو ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں کئے، تب ہی کوئی فائدہ حاصل ہوسکے گا۔ انہوں نے دنیا کے بڑے سرمایہ داروں پر زور دیا کہ وہ اپنی دولت خرچ کریں اور ہمارے نظام شمسی سے باہر ان سیاروں تک جائیں اور دیکھیں جو زمین سے قریب تر ہیں۔

ایک مشہور اخبار سن کی ایک رپورٹ میں برطانوی سائنسداں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر ہم اپنی سائنسی تگ و دو جاری رکھیں تو ایک گھنٹہ سے کم میں مریخ پر، چند دنوں میں پلوٹو پر اور ایک ہفتے سے کم وقت میں الفاسنچوری پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان تمام سیاروں پر پہنچنے کیلئے صرف 20 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

Share: