روبوٹ سائنس کس تیزی سے ترقی کررہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سائنسدانوں نے برسوں کی تحقیق و تجربے کے بعد ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو آپ کے دماغ کو پڑھ سکتا ہے ۔ احساسات اور جذبات کا اندازہ لگاسکتا ہے اور پھر آپ کے رویئے اور برتاﺅ کی نقل بھی کرسکتا ہے۔ یہ کارنامہ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کر دکھایا ہے۔ جنہیں امید ہے کہ جلد ہی اس روبوٹ کو مزید بہتر اور کارگر بنایا گیا تو جذباتی روبوٹس کی ایک نسل تیار کی جاسکے گی۔

سائنسدانوں نے اس روبوٹ کا نام چارلس رکھا ہے اور اس میں انتہائی جدید سافٹ ویئر کے ساتھ بہت ہی حساس کیمرے نصب ہیں جو سامنے والے کے چہرے ، آنکھیں اور نقوش سب کو غور سے دیکھتا ہے ۔ چند لمحے میں انکا تجزیہ کرتا ہے اور پھر اپنی رپورٹ پیش کردیتا ہے۔ بعد میں وہ ان انسانی جذبات اور اسکے نتیجے میں چہرو ںپر ابھرنے والے نقوش کی نقالی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ روبوٹ سائنس کی اس نئی پیشرفت کے نتیجے میں انسان اور مشین کے درمیان حائل دیوار ٹوٹ جائیگی اور ایسے روبوٹ تیار ہوسکیں گے جو عام انسانوں کی طرح ہنسی خوشی اور دیگر جذبات کو محسوس کرینگے اور یہ سب کچھ آئندہ عشرے میں ممکن ہوجائیگا۔

Share: