خلائی تحقیق میں مصروف سائنسدانوں کی دو ٹیموں نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ ایک عرصے سے آتش فشانوں کے فشار کے بعد قدرتی طور پر بن جانے والی سرنگوں یا بڑی نالیوں پر تحقیق کرتے رہے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک ٹیم نے زمین پر انکے محل وقوع اور چاند و مریخ پر انکی جگہ کا تقابلی جائزہ لیا ہے جبکہ دوسری ٹیم نے ایک ایسی ٹیکنالوجی کو جنم دیا ہے جو اُن سرنگوں کو جو بڑی حد تک پوشیدہ رہتی ہیں خاص قسم کے خلائی جہازوں کی مدد سے تلاش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور یہ خاص قسم کے خلائی جہاز انتہائی جدید اور نئی ٹیکنالوجی سے تیار ہونگے۔

یہ تمام تحقیقی رپورٹ فلکیاتی سائنس کی یورپی کانگرس میں مقالے کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چاند اور مریخ پر پہلے قدم رکھنے والے افراد وہاں کے ماحول سے خود کو ہم آہنگ اور مانوس کرنے کیلئے پہلے ان سرنگوں میں رہیں گے ۔ سائنسدانوں نے ان سرنگوں کو لاواٹیوبز کا نام دیا ہے اورانہیں امید ہے کہ یہ سرنگیں تابکاری اثرات سے قدرتی تحفظ فراہم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ مزید یہ کہ ان سرنگوں پر شہابیوں کے گرنے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔

یہ انکشافات کرنے والے سائنسدانوں کا کہناہے کہ اس تحقیق کے طفیل یورپی خلائی ایجنسی کو چاند پراپنا ابتدائی پڑاﺅ 2030ء تک ڈالنے میں مدد ملے گی اور پھر چاند اور مریخ پر 2050ء تک ایسی ہزاروں بستیاں آباد ہوجائیں گی۔

Share: