سوزوکی مہران کے دن اب گئے ، بین الاقوامی کار ساز کمپنی نے انتہائی شاندار اور سستی گاڑیاں متعارف کرا دی ہیں، واضح رہے کہ آٹوپالیسی 2016-21ء کے تحت کئی مقامی اور بین الاقوامی آٹومیکر برانڈز پاکستانی مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یونائیٹڈ آٹوز جو موٹر سائیکل بھی بنا رہے ہیں اور دوسری کمپنی نسان ہے جو جاپانی کاریں بنانے والا ادارہ ہے، یہ دونوں کمپنیاں اب ایسی کاریں متعارف کرانے جا رہے ہیں جو سوزوکی مہران کی چھٹی کرا دیں گی یاد رہے کہ سوزوکی مہران گزشتہ تین دہائیوں سے مارکیٹ میں موجود ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ بنانے والا ادارہ پاک سوزوکی اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔

کئی سالوں سے ہمیں سننے کو مل رہا ہے کہ مہران کا خاتمہ کردیا جائے گا لیکن تمام تر مسائل اور تنقید کے باوجود یہ گاڑی اب بھی پاکستان میں چل رہی ہے ۔ یہ 2017ء میں ملک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ہیچ بیک تھی، جب گزشتہ سال ادارے نے اس کے 42, 985 یونٹس فروخت کیے۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال نومبر میں بتایا گیا کہ سوزوکی نے نئی آلٹو کے حق میں بالآخر مہران کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو 800cc کے انجن کی حامل ہے لیکن اب تک ادارے کی جانب سے اس کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔یہ گاڑی طویل عرصے سے 800cc کے زمرے میں اپنی بالادستی برقرار رکھے ہوئے ہے، اور واحد گاڑی جس نے اس شعبے میں سوزوکی مہران کا کچھ مقابلہ کیا وہ ڈائی ہاٹسو کی کورے تھی جو 850cc تھی، لیکن یہ گاڑی 2012ء میں بند کردی گئی۔ لیکن اب یہ دونوں کمپنیاں نئی گاڑیاں متعارف کرانے والی ہیں جو 800 سی سی انجن کی حامل ہوں گی، ایک یونائیٹڈ آٹوز کی براوو ہے، جس کی آمد کی تصدیق ادارے نے کردی ہے اور دوسری ہے ڈاٹسن ریڈی۔گو، جو گندھارا نسان اور نسان موٹر کمپنی کے باہمی تعاون سے آئے گی، البتہ اب تک ادارے کی جانب سے اس کے اجراء کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے.

واضح رہے کہ نسان نے ڈاٹسن برانڈ 1988ء میں معطل کردیا تھا، لیکن ادارے نے 2012ء میں ڈاٹسن کو جاری کرکے اسے نئی زندگی دی۔ ڈاٹسن ریڈی۔گو 2016ء میں جاری کی گئی تھی۔ ادارے نے یہ گاڑی 0.8لیٹر انجن کے ساتھ پیش کی، البتہ اس کی مقبولیت کی وجہ سے کمپنی نے 1.0 لیٹر انجن کے ساتھ اسے مزید طاقت دی۔ 0.8 لیٹر پٹرول انجن 54 بریک ہارس پاور اور 72 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے اور 5۔اسپیڈ مینوئل گیئربکس کے ساتھ ہے۔یہ گاڑی تقریباً 25 کلومیٹر فی لیٹر کا مائلیج دیتی ہےاور 35 لیٹر کا فیول ٹینک رکھتی ہے۔ بھارت میں ڈاٹسن ریڈی۔گو کی مختلف اقسام صارفین کے لیے دستیاب ہیں اور تقریباً تمام ہی اقسام میں اموبیلائزر، تین پوائنٹ سیٹ بیلٹس وغیرہ موجود ہیں؛ جبکہ ریڈی۔گو کے S ویریئنٹ میں ڈرائیور ایئربیگ بھی ہے۔

دوسری جانب مہران میں ایئربیگ کی کمی ہے، جو حفاظت کے لیے بنیادی خصوصیت ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ادارہ کون سا ویریئنٹ جاری کرتا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے معروف موٹر سائیکل بنانے والے اداروں میں سے ایک یونائیٹڈ آٹوز مقامی مارکیٹ میں براوو نامی 800cc ہیچ بیک پیش کریں گے۔ براوو ڈاہے موٹر DH350 کا تبدیل شدہ نام ہے۔ اس کا انجن 800cc کا 3۔سلینڈر یونٹ ہے۔

ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی کہ ادارہ DH350 کے ساتھ کون سی خصوصیات پیش کرے گا لیکن ان کے جنرل منیجر سیلز اور مارکیٹنگ کا کہنا ہے کہ آنے والی ہیچ بیک میں وہ تمام حفاظتی خصوصیات ہوں گی جو مقامی طور پر بنائی جانے والی ہیچ بیکس میں نہیں ہوتیں۔

واضح رہے کہ یونائیٹڈ آٹوز نے انلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان (IPO) میں گاڑی کے ڈیزائن کے کاپی رائٹ کے لیے بھی درخواست دے دی ہے۔ ادارہ نہ صرف ایک 800cc بلکہ ایک 1000cc گاڑی بھی ملک میں لا رہا ہے۔ اور اس کے لیے کمپنی نے لاہور میں اپنا مینوفیکچرنگ پلانٹ بھی تیار کرلیا ہے۔

Share: