گھٹنے ہمارے جسم کے بڑے اہم جوڑ ہوتے ہیں ۔یہ ہماری سرگرم زندگی اور بھاگ دوڑ میں بڑ ااہم کردار ادا کرتے ہیں ،خاص طور پر تیزدوڑ نے اور ہلکی رفتار سے دوڑنے والوں میں گھٹنوں کو بجاطور پر جسم کا سب سے کمزور حصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔تیز دوڑ اور ہلکی دوڑ کے دوران دردزخم کی کم از کم 30 فی صد تکالیف کا تعلق گھٹنوں سے ہوتا ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ امریکا میں،جہاں ورزش کا شوق زیادہ ہے ،ہلکی رفتار سے دوڑنے والے کروڑوں افراد میں سے ہر سال لاکھوں کے گھٹنوں میں شدید درد کی شکایت عام ہے۔

عمر،جسمانی ساخت اور جنس کے فرق سے قطع نظر پہاڑوں پر چڑھنے اور سخت زمین پر دوڑنے والے 9 فیصد افراد ہر ہفتے اوسطاً 20 میل کا فاصلہ طے کرتے ہیں اور اس ورزش کے دوران اپنے گھٹنے زخمی کر لیتے ہیں ،جب کہ ہر ہفتے 25میل اور35میل دوڑنے والوں میں یہ شرح گیارہ اور چودہ فی صد رہتی ہے۔

ان کے مقابلے میں 40میل کی دوڑلگانے والوں میں سے 17فیصد کے گھٹنے شدت سے درد کرنے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دراصل قدرت نے ہمارے گھٹنے طویل فاصلوں کی دوڑکے لیے نہیں بنائے ہیں ۔ گھٹنے میں ران اور پنڈلی کی دو وزنی ہڈیوں کے جوڑ ایک دوسرے کے ساتھ گھستے پستے رہتے ہیں۔ اس عمل میں دوڑنے والے کے ہر قدم کے ساتھ گھٹنوں پر ان کے وزن سے ڈھائی گنا زیادہ زور ،وزن اور دباؤ پڑتا ہے۔ اس طاقت کے ساتھ ایک میل کی دوڑ میں جوڑ کی ان ہڈیوں پر کوئی ساڑھے سات سو مرتبہ زور پڑتا ہے۔ گو یا 40 میل فی ہفتے کی دوڑ میں ہر گھٹنے کو 30 ہزار دھچکے یا صدمے پہنچتے ہیں۔ جوں جوں فاصلے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ،ان ہڈیوں کے سرے زیادہ گھسنے پسنے کی وجہ سے ا ن کے زخمی ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا جاتاہے۔

اس میں شک نہیں کہ بعض افراد کے گھٹنے سومیل کی دوڑ کے باوجود بالکل ٹھیک رہتے ہیں ،جب کہ بعض کے گھٹنے بہت جلد جواب دے جاتے ہیں ۔بعض قدرتی نقائص کی وجہ سے بھی گھٹنوں میں تکلیف ہو جاتی ہے۔

گھٹنے

 

ان کی وجہ سے گھٹنے ہی کیا،پیروں کے مختلف حصوں میں بھی تکلیف پیدا ہو سکتی ہے۔ اسپورٹس میڈیسن کے ماہرین کے مطابق کو لھے سے لے کر پنجے تک حرکت کرنے والے عضلات (پٹھوں)،بندھنوں اور کر کری ہڈیوں کا ایک سلسلہ پھیلا ہوتا ہے ۔اس طویل اور باہم مربوط سلسلے میں جہاں کوئی معمولی شکایت لاحق ہوتی ہے تو سب سے زیادہ درد گھٹنوں میں ہونے لگتا ہے ،کیوں کہ یہ جسم کا سب سے کمزور حصہ ہوتے ہیں۔

ایک دفعہ زخمی ہونے کے بعد گھٹنوں میں آگے چل کر کسی بھی وقت درد وزخم کا بہت امکان رہتا ہے۔ سب سے اچھی تدبیر یہی ہے کہ احتیاط کی جائے۔اگر آپ تیز اور ہلکی رفتار سے دوڑتے ہیں تو پوری کوشش کیجیے کہ آپ کے گھٹنوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔یہ احتیاط آپ کو بڑے مسائل سے محفوظ رکھے گی۔ آپ یقینا دوڑکے لیے مخصوص جوتے استعمال کرتے ہیں۔

ان جوتوں کے اندر درمیان میں لگا سول، یعنی تلانرم اور لچک دار ہوتاہے ،جس کی وجہ سے دوڑ کے دوران لگنے والے دھچکے زیادہ محسوس نہیں ہوتے ،لیکن یہ 300سے 500میل کے بعد دھچکے برداشت کرنے کی صلاحیت کھود یتے ہیں ۔اگر آپ ہفتے میں 25میل کی دوڑ لگاتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ ہر تین سے چھے مہینے بعد نئے جوتے خریدیں۔ گھٹنے کے اطراف کے پٹھوں کے حرکت کرنے سے ان میں رگڑ کا عمل زیادہ ہوتا ہے ،اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ انھیں لچکانے اور پھیلانے کی مشقیں کریں۔

اس طرح ان میں نہ صرف لچک بر قرار رہے گی،بلکہ ان مشقوں سے یہ اور بھی لچک دار ہو جائیں گے۔ آپ کی رانوں کے پچھلے اور اگلے پٹھوں کے علاوہ پنڈلی کے عضلات کی لچک بھی بڑھ جائے گی۔ گھٹنوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم سے کم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے فاصلے میں 10فی صد فی ہفتے سے زیادہ اضافہ نہ کریں ،یعنی اپنی دوڑ میں ایک ہفتے میں اس سے زیادہ فاصلے کا اضافہ نہ کریں اور ہفتے میں تین مرتبہ سے زیادہ سخت دوڑنہ لگائیں۔

چوں کہ رفتار میں اضافے سے گھٹنوں کے زخمی ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ،اس لیے اپنی مشق ،یعنی دوڑ کے کل فاصلے میں آٹھ فی صد سے زیادہ اضافہ نہ کریں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ڈھلان پر نہ دوڑیں اور یہ بھی دیکھتے رہیں کہ آپ کے جوتوں کے بیرونی کنارے اس حد تک نہ گھس جائیں کہ دوڑکے دوران آپ کے پیرباہر کی طرف مڑنے لگیں۔ ان احتیاطوں کے باوجود اگر گھٹنے زخمی ہو جائیں تو دوسرے دوڑنے والوں یا اپنے معالج کے مشورے سے ایسے ماہر خصوصی سے رجوع کریں ،جس نے زخمی گھٹنوں کا کامیاب علاج کیا ہو۔

ایسے معالج سے ہو شیار رہیے،جو آپ کا سر سری معائنہ کرنے کے بعدمہنگے جوتے خرید نے کا مشورہ دے۔ صحیح اور ہمدرد معالج پہلے آپ سے آپ کے دوڑنے کے انداز اور عادت کے بارے میں تفصیلی سوالات کرے گا اور آپ کے درد کی علامات اور نوعیت کے بارے میں بھی کھوج لگائے گا۔ اس کا فرض ہے کہ وہ آپ سے دوڑ کے کل فاصلے کے بارے میں پوچھے ۔وہ یہ بھی معلوم کرے گا کہ آپ کس قسم کی زمین یا سطح وغیرہ پر دوڑتے ہیں۔

گھٹنے

 

آپ کے جوتوں کو بہ غور دیکھے،پٹھے لچکانے کی ورزشوں کا حال جانے اور ماضی میں دوڑ سے ہونے والے زخم ودرد کی تفصیل معلوم کرے۔ اس کے علاوہ وہ آ پ کی کمر کے نچلے حصے ،پیڑو،ٹخنوں اور پیروں کا اچھی طرح معائنہ کرے۔زخمی گھٹنوں کی دوڑ برداشت کرنے کی صلاحیت اور توانائی کا اندازہ لگائے اور آپ کو چلا کر یا دوڑ کر آپ کی چال کا بہ غور معائنہ کرے۔ گھٹنوں کی تکلیف کے سلسلے میں آپ کو اپنے معالج سے معجزاتی علاج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے،کیوں کہ صحیح تشخیص بھی وقت لیتی ہے اور صحت یابی بھی چٹکی بجاتے ممکن نہیں ہوتی۔اس کے لیے آپ کو صبر وضبط سے کام لینا ہوگا۔

دوڑنے والوں کے گھٹنوں کے زخم بڑے نازک ہوتے ہیں اور بالعموم دوسرے زخموں کی طرح گھٹنوں میں نہ ورم ہوتا ہے ،نہ پٹھوں کی ڈوریاں ٹوٹتی ہے ۔اس وجہ سے ان کی فوری تشخیص نہیں ہو سکتی۔درست تشخیص وعلاج سے 90 فی صد کھلاڑی ،یعنی دوڑنے والے دوڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

گھٹنوں کی درستی تک آپ ایسی دوسری ورزشیں کر سکتے ہیں،جن سے گھٹنوں پر تکلیف دہ دباؤ اور بوجھ نہ پڑے،مثلاً سائیکلنگ اور تیرا کی کے ذریعے آپ خود کو چست وتوانا رکھ سکتے ہیں۔

Share: