لندن کا قومی تھیٹر فروزاں حقیقت جیسی چیزوں کواستعمال کر رہا ہے تاکہ کم سننے والے یا نہ سننے والے ان کے صارفین تک اس تھیٹر کے لطف کی رسائی ممکن ہوسکے۔

ایک چھوٹے سے”کیپشن” شو کے لیےنا صرف آپ کو ٹکٹ بک کروانی چاہیے بلکہ سکرین کو بہترطریقے سے دیکھنےکے لیے آڈیٹوریم میں سیٹ بھی محفوظ کرنی چاہیے۔

شاید اب کچھ ایسا ہے جو تھیئٹر کے ماحول کو سمارٹ گلاسز کی مدد سے تبدیل کرنے کی امید کر رہا ہے اس ہفتے اس نے ایک ٹرائیل لانچ کیا ہے جو کہ بہرے اور کم سننے والے صارفین کے لیے ہے اور اس کے ساتھ ایسا چشمہ فراہم کیا گیا ہے جوان کو سب ٹائیٹلز کو بہترطریقے سےدیکھنےمیں مدد دے گا پھر چاہے وہ تھیئٹر میں جہاں بھی بیٹھے ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

2017 کے ٹاپ اسمارٹ فون

تھئیٹر کے ٹیکنیکل ڈائیریکٹر جوناتھن سفوک نے انٹرویو میں کہا،”وہ مسئلہ جسے ہم حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ انتخاب اور صارفین کے تجربات کا دو گنا مسئلہ ہے” مزید کہا،”گلاس ٹیکنالوجی صارفین کو صبح یا شام جب بھی وہ آنا چاہیں اس کی آزادی فراہم کرے گی اور تھیئٹر میں جہاں بھی وہ بیٹھنا چاہیں بیٹھ سکیں گے”

اس ٹرائل ٹیکنالوجی کو مشاورتی ایکسینچر کی مدد سے پورا سال چلایا جائے گا اور یہ قوموں کے وسیع وزن کا حصہ ہے جو کہ ہر شخص کی تھیئٹر تک رسائی کی یقین دہانی کراتا ہے۔ اس مہینے ڈورفمین کے ساتھ آغاز کرتے ہوئے یہ ہر وقت موجود خدمت آرگنائزیشن کے تینوں تھیئٹرز میں چلائی جائے گی جو کہ اولیئر اور لیٹیلٹن کی بہت مختصر پیروی کرے گی اپریل 2019 سے بظاہر متاثر صارفین کے لیے اس میں ہمیشہ آن آڈیو صارفین کے لیےاضافہ کیا جائے گا۔

نیشنل تھیئٹر کےتجربات اضافہ شدہ حقیقت یا AR کے اور طریقوں کو مارک کرتے ہیں۔ یہ روزمرہ زندگی کی سرایت کرنے کا آغاز ہے۔ ورچوئل حقیقت کے برعکس، جس میں ہیڈ سیٹ جائزہ لینے والے کو کمپیوٹر کی بنائی ہوئی دنیا میں لے جاتا ہے، AR تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر پیش کرنے کے لیے پوکیمون گو کریٹرز یا سنیپ چیٹ فلٹرز کے بارے میں سوچتے ہوئےانٹرمیڈیٹ کےطور پر کام کرتا ہے اور حقیقی زندگی کے مناظر کو آپ کے فون یا گلاسز کی مدد سے ظاہر کرتا ہے۔ ایپل، گوگل، مائیکروسافٹ اور کئی دوسرے ادارے اس پر عمل کر رہے ہیں۔

گم یا چوری شدہ فون کا سراغ کیسے لگایا جائے؟

اولیویا کولمین اور اولیویا ولیمز کی خصوصیات کے ساتھ ایک شو “موسکیٹوز” دیکھتے ہوئے صارفین نے دریافت کیا VR ہیڈ سیٹس کے برعکس، ایپسن کے سمارٹ گلاسز زیادہ ہلکے اور محتاط ہیں اوران کی کارکردگی زیادہ آرام دہ ہے جبکہ اپنی ترجیحات کو پورا کرنے کے لئے کیپشن، سائز اور رنگ تبدیل کرنے کا اختیار بھی ہے۔

اپیشن کےسمارٹ گلاسز تھیئٹر جانے والوں کو کیپشن دکھانے کے لیے اضافہ شدہ حقیقت کا استعمال کریں گے
قومی تھیئٹر میں سکرین کیپشن کو سیٹ کرنے کی صلاحیت پہلے سے ہی موجود ہے اور خود جا ئزہ لینے کے لیے اس نےساتھ میں سیٹس کا ایک بلاک سیٹ کیا ہے جب صارفین اس کی کارکردگی دیکھ رہے تھے تو اس بات نے ان کو حیران کر دیا کہ کیپشن کا ایک ہی جگہ پر فکس ہونا کتنا مایوس کن ہوگا اور یہ طلب کرتا ہےکہ آپ کو ٹیکسٹ کو پڑھنے کے لیے سٹیج ایکشن کو دیکھنا ہوگا اب جب کہ ایپسن کےگلاسز کی مدد سے ہروقت سب ٹائیٹلز کو دیکھا جا سکتا ہے تو کیپشن کو پڑھنےکےموقع کو ضائع کیے بغیر صارفین کے لیے فنکاروں کی کارکردگی کے ہر پہلو کو اچھی طرح دیکھنا ممکن ہوگیا ہے۔

ڈرون جیتنے کا شاندار موقع

اب یہ دیکھنا آسان ہوگیا تھا کہ یہ کس طرح آہستہ آہستہ دیکھنے والوں کے لطف کو تبدیل کرتا ہے لیکن یہ بتانے کے لیے کہ سٹم کام کر رہا ہے یا نہیں قومی تھیئٹر جرنلسٹس کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے کم سسنے والے صارفین کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔

رسائی پر مرکوز گرائی تھِئٹر کمپنی اور قومی باقاعدگی کی سی-ای-او اور آرٹسٹک ڈائیرکٹر جینی سیلائے نے کہا جس کوبھی سننےمیں کوئی مسئلہ ہواس پر ان گلاسز کا جائزہ لینے کا مجھے تجسس ہے۔

سونے کے لامحدود ذخائر دریافت

انہوں نے مزید کہا،”میں نے کیپشن شدہ پروڈکشن میں شرکت کی ہے اور اسے مایوس کن پایا کیونکہ جب آپ اولیویئر سٹیج پر شو دیکھ رہے ہوں تو کیپشنز باکس کو سٹیج کی سائیڈز سے بہت دور رکھا جاتا ہے مطلب آپ ایکشنز کو سچ میں نہیں دیکھ پائیں گے اور کبھی کبھی اسے اتنا اوپر رکھا جاتا ہے کہ اس کو دیکھنا آرام دہ نہیں ہوتا” مزید کہا،”مجھے ایک بار چلانے پر صرف ایک یا دو شو دکھائے گئے جس کی وجہ سےمجھے بہت مختصر انتخاب ملا اوراس نےبھی مجھےمایوس کردیا”

انہوں نے مزید کہا،”جب ہر کارکردگی کو دیکھنے کے لیے گلاسز دستیاب ہوں گےتو یہ انقلاب برپا کر دیں گے”

اگلے سال چلانے کے لیے پائیلٹ پراجیکٹ مقرر کیا گیا ہے جس میں تھیئٹرز ایپسن کو ہارڈوئیر اور سافٹ وئیر کو بہتر بنانےکے لیے تھیئٹر میں آنے والوں کی رائے بھی مہیا کریں گے” اکتوبر 2018 سے ہم آپ کو ایک مناسب اور مربوط نظام پیش کرنے کے قابل ہو جائیں گےجس کے بارے میں سیفولک نے نے ہمیشہ سے کہا ہے۔۔۔۔

Share: