ایپس کے دنیا میں ایک ایسی ایپ سامنے آئی ہے جو بچوں کے کسی فحش یا برہنہ مواد کے وصول ہونے یا اسے کلک کرنے کی صورت میں والدین کو آگاہ کردیتی ہے۔

ایپ بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ 96 فی صد تک تصاویر کی شناخت کر لیتی ہے. ایک ایسی ایپ سامنے آئی ہے جو کسی بچے کے پاس فحش یا برہنہ تصاویر آنے یا اسے کلک کرنے کی صورت میں والدین کو آگاہ کردیتی ہے۔

اس ایپ کا نام ‘گیلری گارڈین’ ہے اور اس کے ذریعے بچوں کو بہکانے والی تصاویر سے بچایا جا سکتا ہے۔

اگر بچے اپنے فون میں ایسی تصاویر کو محفوظ کریں گے تو بھی یہ ایپ والدین کے پاس خبر بھیج دے گا۔ ییپو ٹیکنالوجی کے بانی ڈینیل سكوروونسكي کا کہنا ہے کہ اس ایپ کو سمجھنا بہت آسان ہے۔ یہ ایپ پہلے تصویر کی شناخت کرتا ہے کہ آیا وہ کوئی انسان ہے۔ اس کے بعد وہ سکن یعنی جلد کو دیکھتا ہے اور اگر تصویر میں زیادہ سکن ہے تو وہ اس کا حساب کر لیتا ہے۔

بی بی سی نے اس ایپ کی جانچ کی ہے اور یہ پایا کہ 20 تصاویر میں سے آٹھ کی یہ خاطرخواہ شناخت نہیں کر سکا. تحقیقات میں کئی چیزیں سامنے آئیں۔ بعض تصاویر کی ایپ اطمینان بخش طور پر شناخت نہیں کر پایا۔ لباس والی تصاویر کی یہ ایپ شناخت نہیں کر پایا۔ اگرچہ جسم کے بعض حصوں کو ایپ پکڑنے میں کامیاب رہا۔ ایسے میں ڈینیل نے کہا کہ ایپ کا پورا زور جلد پر ہے۔

اسی دوران ایپ اس بات کی نشاندہی کر لیتا ہے کہ آيا تصویر مشکوک تو نہیں۔ بی بی سی نے اس ایپ کو پرکھا ہے کہ کیا واقعی یہ وہی کام کرتا ہے جس کا اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے.

بی بی سی نے اس ایپ کے دعوؤں کی بنیاد پر 20 شہوت انگیز تصاویر کا تجربہ کیا۔ ان میں سے 12 تصاویر کی شناخت ایپ نے فوراً کر لی، لیکن آٹھ تصاویر کی شناخت کرنے میں یہ ناکام رہا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایپ 96 فیصد تصاویر کی شناخت کر لیتا ہے۔ بہر حال سنیپ چیٹ سے ارسال کی جانے والی تصاویر کے معاملے میں یہ ایپ بہت معقول نہیں ہے۔

Share: