بجلی کی بچت اب ہوئی اور آسان۔ مصری انجینئر نے عمارتوں میں بجلی کی بچت کرنے والا ایسا غیر روایتی طریقہ وضع کر لیا ہے جو پوری دنیا میں آسانی سے رائج ہو سکتا ہے۔ فرانس میں رہنے والے مصری ماہر طارق شعبان نے چار منزلہ گھر پر اس کی کامیاب آزمائش کی ہے جو ایک محفوظ اور آسان طریقہ بھی ہے۔ مصری عسکری پیداوار سے وابستہ ایک کمپنی بینہا گروپ اب اس طریقے کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ طارق کو عمارتوں کے لیے محفوظ برقی سسٹم کا پیٹنٹ (حقِ ملکیت) بھی مل چکا ہے، اپریل 2017 میں اس ایجاد کو سوئٹزرلینڈ میں گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ہے۔

طارق شعبان کا کہنا ہے کہ یہ نظام بجلی کی بچت کے ساتھ ساتھ آتشزدگی اور کرنٹ لگنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے خواہ برقی تار پانی میں گرجائے یا اس کے ننگے تاروں کو براہ راست چھوا جائے تب بھی جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سسٹم 220 وولٹ کو 14 وولٹ میں تبدیل کردے گا اور روشنیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سسٹم برقی مقناطیسی سرکٹ پر انحصار کرتے ہوئے برقی کرنٹ کی مزاحمت کو کم ترین درجے پر لے آتا ہے لیکن اس سے روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ وولٹیج کم ہونے سے اگر کوئی تاروں کو چھولے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی آگ لگتی ہے۔

اس نظام کو جب ایک چار منزلہ گھر پر آزمایا گیا تو اس کے 100 فیصد نتائج برآمد ہوئے جو بجلی کی قلت کے شکار ممالک کے لیے ایک زبردست ایجاد ثابت ہو سکتی ہے۔ صرف عرب خطے میں 2010 سے 2030 تک بجلی کی سالانہ کھپت میں 6 فیصد اضافے کے پیش گوئی کی گئی ہے۔ ابھی یہ صرف لائٹوں کے لیے کارآمد ہے جب کہ ایئرکنڈیشنر اور واٹر ہیٹر کے لیے بھی نظام تیار کیا جا رہا ہے۔

Share: