کمپیوٹر سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی میکیفی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’قابل اعتراض‘ ویب سائٹس پر امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقابلے میں انڈین بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

26 فیصد آسٹریلوی بچے، 45فیصد برازیلین، 41 فیصد فرانسیسی، 37 فیصد امریکی اور 23 فیصد برطانوی بچے نامناسب ویب سائٹس پر جاتے ہیں۔ اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 84 فیصد انڈین والدین اپنے بچوں کو انٹرنیٹ والے سمارٹ فونز کے ساتھ سونے کی اجازت دیتے ہیں۔ حالانکہ 50 فیصد انڈین والدین نے اس بارے میں اپنے بچوں سے بحث بھی کی ہے۔

چوراسی فیصد انڈین والدین اپنے بچوں کو انٹرنیٹ والے سمارٹ فونز کے ساتھ سونے کی اجازت دیتے ہیں۔

جو بچے آن لائن بات چیت یا چیٹ کرتے ہیں ان کے لیے یہ تشویش ناک ہے۔ 57 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ہر دن ایک سے دو گھنٹے اپنے بچوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 21 فیصد والدین نے یہ کہا کہ انھوں نے ہر دن ایک گھنٹے سے کم انٹرنیٹ استعمال کرنے کی حد مقرر کر رکھی ہے۔

میکیفی کے جنوبی ایشیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر آنند رام مورتی کا کہنا ہے کہ ’ہر طرف سے جڑی دنیا میں والدین اپنے بچوں کے ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے طریقے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ ان کے بچے ٹیکنالوجی سے کس قدر متاثر ہو رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ والدین کو گھر میں انٹرنیٹ والے آلات پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ بچوں کی حفاظت کو اور ان کی ذاتی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس سروے میں آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، فرانس، جرمنی، انڈیا، اٹلی، میکسیکو، ہالینڈ، سنگاپور، سپین، برطانیہ اور امریکہ سے 13 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

Share: