دنیا جس تیزی سے ترقی کررہی ہے اس میں انسان کی اہمیت کم سے کم تر نظر آنے لگی ہے۔ بہت سارے کام جو کل تک انسان انجام دیا کرتے تھے اب یا تو بڑی مشینیں یا روبوٹ یا اسی قسم کی چیزوں کی مدد سے کئے جارہے ہیں یا پھر مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاکر اانسان کی قدرتی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑا کیا جارہا ہے.

ای میل اکاﺅنٹس کے پاسورڈ چوری ہو گئے

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے روبوٹ وغیرہ مختلف کام کرنے لگے ہیں اسکے نتیجے میں اس بات کا سنگین خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ اب دوسری ملازمتوں پر بھی انکا قبضہ ہوجائیگا جس کے بعد بےروزگاری کا طوفان اٹھے گا اور عام کارکن ہی نہیں بلکہ مخصوص پیشے سے وابستہ افراد بھی اپنی قدرو قیمت گنوا بیٹھیں گے. ایسے لوگوں میں اکاﺅنٹینٹ، وکلاء، ٹرک ڈرائیور، تعمیراتی کام کرنیوالے افراداور اسی قسم کے دیگر ملازمتوں سے وابستہ لوگ شامل کئے جاسکتے ہیں۔ اندازے کے مطابق اگر کمپیوٹرز نے100 فیصد انسانی کام کرنا شروع نہ بھی کئے تو اندازہ ہے کہ 70سے 80 فیصد تک برسرروزگار افراد بیکار بن کر رہ جائیں گے اور انکے لئے کام یا نوکری ڈھونڈنا مشکل ہوجائیگا.

تاہم حقائق پر نظررکھنے والے افراد اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ روبوٹ وغیرہ انسان کی تخلیق ہیں اور انسان ان سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے.

Share: