برطانیہ کے ساحلی شہر پینرین میں ایک عجیب و غریب انجینیئرنگ فرم کام کررہی ہے جس نے اپنا نام انجینیئرنگ آرٹس رکھ لیا ہے۔ اب مختلف چیزیں تیار کرنے کے بعد یہاں کے انجینیئروں نے انسان صفت یا ہیومنزائڈ روبوٹس کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے اور یہ کام تقریباً آخری مراحل سے گزر رہا ہے۔

ہیومنزائڈ روبوٹس
ہیومنزائڈ روبوٹس

 

اس حوالے سے جو وڈیو اور تصاویر عام کی گئی ہیں اس میں اس کی تیاری کے مختلف مراحل بھی دکھائے گئے ہیں۔ ایک روبوٹ کے سرپر کام ہوتا بھی نظر آرہا ہے۔ شاید انجینیئر اس کے مشینی دماغ کی تاروں کو درست کررہا ہے ۔ ایسے روبوٹس کی قیمت 9500پونڈ سے لیکر 59000تک ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ اسے ان خطوط پر تیار کیا جارہا ہے کہ اسے دیکھ کر انسان کا گمان ہو ظاہری شکل انسان جیسی ہے ہی ۔

اسکے اندر جو ٹیکنیکل سہولیات داخل کی گئی ہیں ان کی مدد سے وہ بیک وقت نہ صرف کئی زبانیں جانتا ہے بلکہ ان زبانوں میں بات بھی کرسکتا ہے۔

ہیومنزائڈ روبوٹس
ہیومنزائڈ روبوٹس

 

بہت کم لوگ اس ساحلی انجینیئرنگ کمپنی میں جاری کام سے واقف ہیں کیونکہ فرم کے ذمہ دار بڑی خاموشی سے اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں او راب جبکہ ان روبوٹس کی تکمیل کا مرحلہ قریب آرہا ہے تو اسکی کچھ تصاویر اتار کر جاری کردی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہناہے کہ ان تصاویر میں صاف نظرآرہا ہے کہ انجینیئرنگ آرٹس کمپنی نے کس طرح پروستھیٹکس روبوٹکس اور آرٹسٹری کی مختلف ٹیکنالوجیز کو یکجا کردیا ہے۔

ہیومنزائڈ روبوٹس
ہیومنزائڈ روبوٹس

 

2004ءمیں قائم ہونے والی اس کمپنی کا کہناہے کہ جو ہیومنزائڈ روبوٹ تیار کیا جارہا ہے اس کا قد بھی انسانوں جتنا ہے اور اس وقت یہ کمپنی اس جدید روبوٹ کی تین اقسام کو فروخت کیلئے مارکیٹ میں لاچکی ہے جن میں سے ایک روبوٹ تھیسپیئن، دوسرا سوشو بورڈ اور تیسرا سوشیو بورڈ منی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ روبوٹ 15منٹ تک گفتگو کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Share: