امریکہ کی معروف کولمبیا یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے سوچنے کے عمل کے دوران ذہن میں بننے والی لہروں کو پڑھا جا سکتا ہے اور دماغ سے باتیں بھی کی جا سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مخصوص تکنیک کے ذریعے انسانی دماغ کے ساتھ براہ راست مکالمہ کرنے کا طریقہ کار دریافت کر لیا ہے ۔ دماغ میں سوچنے کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی لہروں کو مرتب کر لیا گیا ہے اور اسے زبان دی گئی ہے۔

سائنسدان پر امید ہیں کہ اس طریقہ کار سے دماغی سرگرمیوں کو لہروں یا سگنلز کے ذریعہ مکالمے میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ گو اب تک تجربے میں آڈیو کوالٹی زیادہ بہتر نہیں ہے لیکن مستقبل قریب میں اس میں انقلابی تبدیلی آئے گی اور ایک دن انسان کے سوچنے کے عمل کو سنا جاسکے گا ۔

Share: